جون ایلیا
Joan Elia
# جون ایلیا کا تعارف
**تخلص:** جون
**اصل نام:** سید حسین جون اصغر
**پیدائش:** 14 دسمبر 1931ء، امروہہ، اتر پردیش، ہندوستان
**وفات:** 8 نومبر 2002ء، کراچی، سندھ، پاکستان
**اہلِ خانہ:** رئیس امروہوی (بھائی)، زاہدہ حنا (اہلیہ)، رخسانہ امروہوی (بھتیجی)
**LCCN:** n93022397
> **میں بھی بہت عجیب ہوں، اتنا عجیب ہوں کہ بس
> خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں**
## جون ایلیا کون تھے؟
جون ایلیا اردو ادب کے ان منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے محبت، تنہائی، شکست، فلسفے، بغاوت اور انسانی نفسیات کو اپنی شاعری کا بنیادی موضوع بنایا۔ ان کا اندازِ بیان روایتی شاعری سے مختلف، بے باک اور انتہائی ذاتی نوعیت کا تھا۔ ان کے اشعار میں ایک طرف عشق اور جدائی کی شدت نظر آتی ہے تو دوسری طرف زندگی، سماج اور انسان کے وجود سے متعلق گہرے فلسفیانہ سوالات بھی دکھائی دیتے ہیں۔
جون ایلیا 14 دسمبر 1931ء کو اتر پردیش کے شہر امروہہ میں ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید شفیق حسن ایلیا عالم اور شاعر تھے۔ جون کو اپنے والد کی علمی شخصیت اور کتابوں سے گہرا اثر ملا۔ وہ خود اپنی زندگی اور تربیت کے حوالے سے کہتے تھے کہ جس شخص کو اس کے مثالی پسند باپ نے عملی زندگی گزارنے کے بجائے علم کو سب سے بڑی فضیلت اور کتابوں کو سب سے بڑی دولت قرار دیا ہو، اس کا عملی زندگی میں ناکام رہ جانا شاید حیرت کی بات نہیں۔
جون ایلیا کے خاندان میں کئی معروف علمی، ادبی اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ شخصیات موجود تھیں۔ معروف صحافی، شاعر اور ماہرِ نفسیات رئیس امروہوی ان کے بھائی تھے، جبکہ فلسفی اور ادیب سید محمد تقی بھی ان کے بھائیوں میں شامل تھے۔ مشہور مصور، خطاط اور شاعر صادقین اور معروف فلم ساز کمال امروہوی ان کے قریبی رشتہ داروں میں شمار ہوتے تھے۔
## بچپن اور ابتدائی زندگی
جون ایلیا کی شخصیت میں بچپن ہی سے غیر معمولی حساسیت اور تخیل نمایاں تھا۔ وہ اپنی ابتدائی زندگی کے کئی واقعات خود بیان کرتے رہے۔ ان کے مطابق پیدائش کے کچھ ہی دیر بعد انہوں نے چھت کو دیکھتے ہوئے عجیب انداز میں ہنسنا شروع کر دیا تھا، جس سے گھر کی خواتین خوف زدہ ہو کر کمرے سے باہر نکل گئی تھیں۔
جون کا ایک مشہور بیان ہے کہ انہوں نے صرف آٹھ برس کی عمر میں پہلا عشق کیا اور اسی عمر میں اپنا پہلا شعر بھی کہا۔ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ محبت، تخیل اور شاعری ان کی شخصیت میں بہت کم عمری سے ہی شامل ہو چکے تھے۔
ان کی ابتدائی تعلیم امروہہ کے مدارس میں ہوئی، جہاں انہوں نے اردو، عربی اور فارسی سیکھی۔ روایتی نصابی تعلیم میں ان کی خاص دلچسپی نہیں تھی اور وہ بعض اوقات امتحانات میں ناکام بھی ہو جاتے تھے۔ بعد ازاں ان کی دلچسپی فلسفے، تاریخ اور ہیئت جیسے موضوعات میں بڑھتی گئی۔
جون ایلیا نے اردو، فارسی اور فلسفے کا باقاعدہ مطالعہ کیا۔ وہ متعدد زبانوں سے واقف تھے اور انگریزی، عربی، فارسی کے علاوہ پہلوی، عبرانی، سنسکرت اور فرانسیسی زبانوں سے بھی شناسائی رکھتے تھے۔
## فلسفہ اور سیاسی خیالات
نوجوانی کے زمانے میں جون ایلیا کمیونزم سے بھی متاثر ہوئے۔ ان کی فکری شخصیت صرف شاعری تک محدود نہیں تھی بلکہ تاریخ، فلسفہ، سیاست اور مذہب جیسے موضوعات بھی ان کی دلچسپی کا حصہ تھے۔
ان کا مطالعہ غیر معمولی طور پر وسیع تھا۔ وہ قدیم مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی تاریخ، فلسفے اور مختلف فکری تحریکوں کا گہرا مطالعہ کرتے تھے۔ ان کی علمی سرگرمیوں میں مختلف زبانوں کی کتابوں کا مطالعہ اور ترجمہ بھی شامل تھا۔
## ہجرت اور پاکستان آمد
قیامِ پاکستان کے بعد جون ایلیا کے بڑے بھائی پاکستان منتقل ہو گئے، تاہم جون کچھ عرصہ امروہہ میں ہی رہے۔ والدین کے انتقال کے بعد وہ 1956ء میں پاکستان آ گئے۔
ہندوستان اور امروہہ سے ان کی جذباتی وابستگی آخری عمر تک قائم رہی۔ ہجرت ان کے لیے محض ایک جغرافیائی سفر نہیں تھی بلکہ ایک گہرا ذہنی اور جذباتی تجربہ بھی تھی۔ وہ اپنی ہجرت کے احساس کو بیان کرتے ہوئے کہتے تھے:
> **پاکستان آ کر میں ہندوستانی ہو گیا۔**
پاکستان آنے کے بعد ان کے بھائی رئیس امروہوی نے انہیں ادبی سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کی کوشش کی تاکہ وہ ہجرت کے صدمے سے باہر آ سکیں۔ اسی مقصد کے تحت رئیس امروہوی نے علمی و ادبی رسالہ **انشا** جاری کیا، جس سے جون ایلیا وابستہ ہوئے اور اس کے اداریے لکھتے رہے۔ بعد میں یہ رسالہ **عالمی ڈائجسٹ** میں تبدیل ہو گیا۔
اسی دور میں جون ایلیا نے قبل از اسلام مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی تاریخ پر کام کیا اور باطنی تحریک اور فلسفے سے متعلق متعدد انگریزی، عربی اور فارسی کتابوں کا مطالعہ اور ترجمہ کیا۔
وہ اردو ترقی بورڈ سے بھی وابستہ رہے اور اردو لغت کی تیاری جیسے بڑے علمی منصوبے میں اہم کردار ادا کیا۔
## جون ایلیا اور عشق
جون ایلیا کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کا عاشقانہ مزاج تھا۔ وہ کم عمری ہی سے محبت اور تخیل کی دنیا میں رہتے تھے۔ بارہ برس کی عمر میں انہوں نے ایک خیالی محبوبہ، صوفیہ، کے نام خطوط بھی لکھے۔
نوجوانی میں انہیں ایک لڑکی فارہہ سے محبت ہوئی جس کی یاد ان کے ساتھ زندگی بھر رہی، تاہم انہوں نے کبھی کھل کر اپنے عشق کا اظہار نہیں کیا۔
جون کے عشق میں ایک خاص قسم کی خودداری اور انانیت موجود تھی۔ وہ محبت کے اظہار کو بعض اوقات اپنی کمزوری سمجھتے تھے۔ ان کا ایک شعر اسی کیفیت کی بھرپور عکاسی کرتا ہے:
> **حسن سے عرضِ شوق نہ کرنا حسن کو زک پہنچانا ہے
> ہم نے عرضِ شوق نہ کر کے حسن کو زک پہنچائی ہے**
جون ایلیا نے عشق کو روایتی انداز میں پیش کرنے کے بجائے اسے اپنی ذات، انا، شکست اور محرومی کے ساتھ جوڑ دیا۔ یہی انداز ان کی عشقیہ شاعری کو دوسرے شعرا سے منفرد بناتا ہے۔
## زاہدہ حنا سے شادی
رسالہ **انشا** کے زمانے میں جون ایلیا کی ملاقات معروف صحافی، ادیبہ اور افسانہ نگار زاہدہ حنا سے ہوئی۔ دونوں کے درمیان قربت بڑھی اور 1970ء میں ان کی شادی ہو گئی۔
شادی کے ابتدائی دور میں دونوں ایک دوسرے کے ساتھ خوش رہے۔ زاہدہ حنا نے جون ایلیا کی زندگی میں اہم کردار ادا کیا اور ان کی دیکھ بھال بھی کی، لیکن وقت کے ساتھ دونوں کے مزاج اور فکری اختلافات نمایاں ہوتے گئے۔
بعد ازاں دونوں میں علیحدگی ہو گئی اور تین بچوں کی پیدائش کے بعد ان کی طلاق ہو گئی۔
## جون ایلیا کی شخصیت
جون ایلیا کی شخصیت انتہائی پیچیدہ، حساس اور منفرد تھی۔ ان کے دوست قمر رضی نے ان کی شخصیت کو مختلف متضاد خصوصیات کا مجموعہ قرار دیا۔ ان کے مطابق جون ایک حساس مگر مخلص دوست، شفیق اور بے تکلف استاد، اپنے خیالات میں گم رہنے والے راہ گیر، زبردست شریکِ بحث، مغرور فلسفی، جلد جذباتی ہو جانے والے غم گسار اور انتہائی خوددار عاشق تھے۔
وہ تنہائی پسند بھی تھے اور محفل پسند بھی۔ انہیں لوگوں سے بحث کرنا، نئے خیالات پیش کرنا اور اپنی منفرد شخصیت کے ذریعے دوسروں کی توجہ حاصل کرنا پسند تھا۔
جون کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ عام لوگوں سے مختلف نظر آنے میں بھی دلچسپی رکھتے تھے۔ گرمی میں کمبل اوڑھ لینا، رات کو دھوپ کا چشمہ پہننا یا کھڑاؤں پہن کر دور دور تک چلے جانا ان کی شخصیت کے انوکھے پہلوؤں میں شمار ہوتا ہے۔
## مشاعروں کے مقبول شاعر
پاکستان آنے کے بعد جون ایلیا نے اپنی شاعری کے ذریعے بہت جلد ادبی حلقوں میں نمایاں مقام حاصل کر لیا۔ ان کی مقبولیت میں ان کے مشاعروں میں شرکت اور شاعری پڑھنے کے منفرد انداز کا بھی اہم کردار تھا۔
جون جب مشاعرے میں اپنا کلام پڑھتے تو ان کا اندازِ ادائیگی انتہائی ڈرامائی اور مؤثر ہوتا۔ ان کی آواز، انداز اور الفاظ کے انتخاب سے سامعین بہت متاثر ہوتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جس مشاعرے میں جون ایلیا شریک ہوتے، اس کی کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے تھے۔
ان کی منفرد شخصیت اور غیر روایتی انداز نے انہیں ادبی دنیا میں ایک الگ شناخت دی۔
## تنہائی، صحت اور آخری ایام
زاہدہ حنا سے علیحدگی جون ایلیا کی زندگی کا ایک اہم اور تکلیف دہ مرحلہ تھا۔ وہ طویل وقت تنہائی میں گزارتے اور اکثر نیم تاریک کمرے میں خاموش بیٹھے رہتے۔
تمباکو نوشی اور مشروبات کے استعمال نے بھی ان کی صحت کو متاثر کیا۔ زندگی کے آخری برسوں میں ان کی صحت مسلسل خراب ہوتی گئی۔
8 نومبر 2002ء کو جون ایلیا کراچی میں وفات پا گئے۔ ان کی وفات اردو ادب کے لیے ایک بڑے شاعر کی جدائی تھی، تاہم ان کی شاعری نے انہیں ہمیشہ کے لیے اردو ادب میں زندہ کر دیا۔
## جون ایلیا کی شاعری اور کتابیں
جون ایلیا اپنی شاعری کی اشاعت کے معاملے میں بھی غیر معمولی حد تک بے نیاز تھے۔ طویل عرصے تک ان کا کلام کتابی شکل میں شائع نہیں ہوا۔
تقریباً ساٹھ برس کی عمر میں، قارئین اور دوستوں کے اصرار پر، ان کا پہلا شعری مجموعہ **شاید** 1990ء میں شائع ہوا۔ اس کتاب نے انہیں عام قارئین کے درمیان بھی غیر معمولی مقبولیت عطا کی۔
ان کا دوسرا شعری مجموعہ **یعنی** ان کی وفات کے بعد 2003ء میں شائع ہوا۔ بعد میں ان کے قریبی ساتھی خالد احمد انصاری نے ان کے منتشر کلام اور تحریروں کو جمع کرنے، مرتب کرنے اور شائع کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کی بعد از وفات شائع ہونے والی اہم کتابوں میں:
* **گمان** — 2004ء
* **لیکن** — 2006ء
* **گویا** — 2008ء
* **فرنود** — 2012ء
* **راموز** — 2016ء
* **میں یا میں** — 2020ء
شامل ہیں۔
ان کے دوسرے شعری مجموعے **یعنی** کو بعد میں مزید اشعار کے اضافے کے ساتھ بھی شائع کیا گیا۔ **فرنود** میں جون ایلیا کی نثری تحریریں اور مختلف موضوعات پر ان کے انشائیے شامل ہیں۔
ان کے دیگر منتشر اور غیر مطبوعہ کلام کو بھی بعد میں مرتب کرنے کی کوششیں جاری رہیں۔
## جون ایلیا کی شاعری کا مقام
جون ایلیا کی عظمت صرف اس وجہ سے نہیں کہ انہوں نے روایتی شعری معیار پر پورا اترنے والی شاعری کی، بلکہ ان کی اصل انفرادیت انسانی جذبات اور نفسیاتی کیفیات کو انتہائی شدت اور گہرائی کے ساتھ بیان کرنے میں ہے۔
محبت، بے وفائی، تنہائی، مایوسی، خود سے مکالمہ، زندگی سے بیزاری، وجودی سوالات اور انسانی کمزوریوں کو جس انداز میں جون ایلیا نے شعر کا موضوع بنایا، اردو شاعری میں اس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔
ان کے اشعار میں ایک ہی وقت میں محبت بھی ہے، احتجاج بھی؛ امید بھی ہے، مایوسی بھی؛ خود اعتمادی بھی ہے اور اپنی ذات سے شکایت بھی۔
جون کی شاعری کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ وہ اپنے قاری کو صرف شعر پڑھنے کا تجربہ نہیں دیتی بلکہ اسے شاعر کی اندرونی دنیا میں داخل کر دیتی ہے۔ ان کے جذبات کی شدت اور کیفیت کو قاری تک منتقل کرنے کی صلاحیت انہیں اردو کے بڑے شاعروں کی صف میں شامل کرتی ہے۔
ان کی شاعری میں جذبات کی جو شدت اور داخلی کیفیت نظر آتی ہے، اس حوالے سے ان کا موازنہ اردو کے عظیم شاعر **میر تقی میر** سے بھی کیا جاتا ہے۔
## جون ایلیا کی ادبی میراث
جون ایلیا آج بھی اردو کے سب سے زیادہ پڑھے اور سنے جانے والے شاعروں میں شامل ہیں۔ ان کے اشعار نوجوان نسل میں خاص طور پر مقبول ہیں، کیونکہ ان کی شاعری میں محبت، تنہائی، ناکامی، خود کلامی اور زندگی کی پیچیدگیوں کو ایسے سادہ مگر گہرے انداز میں بیان کیا گیا ہے جس سے عام قاری بھی آسانی سے جڑ جاتا ہے۔
ان کی شاعری نے اردو ادب میں ایک ایسی آواز پیدا کی جو بیک وقت باغی، عاشق، فلسفی، شکست خوردہ اور خوددار تھی۔
جون ایلیا نے اپنی زندگی میں جتنا کم اپنی کتابوں کی اشاعت پر توجہ دی، ان کی وفات کے بعد ان کا کلام اتنا ہی زیادہ قارئین تک پہنچا۔ آج ان کا نام اردو شاعری کے ان منفرد شعرا میں لیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی ذات اور اپنے تجربات کو شاعری کا ایسا حصہ بنایا جو کئی نسلوں کے لیے یادگار بن گیا۔
**جون ایلیا صرف ایک شاعر نہیں بلکہ اردو ادب میں ایک منفرد فکری اور جذباتی لہجے کا نام ہیں۔**
**تخلص:** جون
**اصل نام:** سید حسین جون اصغر
**پیدائش:** 14 دسمبر 1931ء، امروہہ، اتر پردیش، ہندوستان
**وفات:** 8 نومبر 2002ء، کراچی، سندھ، پاکستان
**اہلِ خانہ:** رئیس امروہوی (بھائی)، زاہدہ حنا (اہلیہ)، رخسانہ امروہوی (بھتیجی)
**LCCN:** n93022397
> **میں بھی بہت عجیب ہوں، اتنا عجیب ہوں کہ بس
> خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں**
## جون ایلیا کون تھے؟
جون ایلیا اردو ادب کے ان منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے محبت، تنہائی، شکست، فلسفے، بغاوت اور انسانی نفسیات کو اپنی شاعری کا بنیادی موضوع بنایا۔ ان کا اندازِ بیان روایتی شاعری سے مختلف، بے باک اور انتہائی ذاتی نوعیت کا تھا۔ ان کے اشعار میں ایک طرف عشق اور جدائی کی شدت نظر آتی ہے تو دوسری طرف زندگی، سماج اور انسان کے وجود سے متعلق گہرے فلسفیانہ سوالات بھی دکھائی دیتے ہیں۔
جون ایلیا 14 دسمبر 1931ء کو اتر پردیش کے شہر امروہہ میں ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید شفیق حسن ایلیا عالم اور شاعر تھے۔ جون کو اپنے والد کی علمی شخصیت اور کتابوں سے گہرا اثر ملا۔ وہ خود اپنی زندگی اور تربیت کے حوالے سے کہتے تھے کہ جس شخص کو اس کے مثالی پسند باپ نے عملی زندگی گزارنے کے بجائے علم کو سب سے بڑی فضیلت اور کتابوں کو سب سے بڑی دولت قرار دیا ہو، اس کا عملی زندگی میں ناکام رہ جانا شاید حیرت کی بات نہیں۔
جون ایلیا کے خاندان میں کئی معروف علمی، ادبی اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ شخصیات موجود تھیں۔ معروف صحافی، شاعر اور ماہرِ نفسیات رئیس امروہوی ان کے بھائی تھے، جبکہ فلسفی اور ادیب سید محمد تقی بھی ان کے بھائیوں میں شامل تھے۔ مشہور مصور، خطاط اور شاعر صادقین اور معروف فلم ساز کمال امروہوی ان کے قریبی رشتہ داروں میں شمار ہوتے تھے۔
## بچپن اور ابتدائی زندگی
جون ایلیا کی شخصیت میں بچپن ہی سے غیر معمولی حساسیت اور تخیل نمایاں تھا۔ وہ اپنی ابتدائی زندگی کے کئی واقعات خود بیان کرتے رہے۔ ان کے مطابق پیدائش کے کچھ ہی دیر بعد انہوں نے چھت کو دیکھتے ہوئے عجیب انداز میں ہنسنا شروع کر دیا تھا، جس سے گھر کی خواتین خوف زدہ ہو کر کمرے سے باہر نکل گئی تھیں۔
جون کا ایک مشہور بیان ہے کہ انہوں نے صرف آٹھ برس کی عمر میں پہلا عشق کیا اور اسی عمر میں اپنا پہلا شعر بھی کہا۔ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ محبت، تخیل اور شاعری ان کی شخصیت میں بہت کم عمری سے ہی شامل ہو چکے تھے۔
ان کی ابتدائی تعلیم امروہہ کے مدارس میں ہوئی، جہاں انہوں نے اردو، عربی اور فارسی سیکھی۔ روایتی نصابی تعلیم میں ان کی خاص دلچسپی نہیں تھی اور وہ بعض اوقات امتحانات میں ناکام بھی ہو جاتے تھے۔ بعد ازاں ان کی دلچسپی فلسفے، تاریخ اور ہیئت جیسے موضوعات میں بڑھتی گئی۔
جون ایلیا نے اردو، فارسی اور فلسفے کا باقاعدہ مطالعہ کیا۔ وہ متعدد زبانوں سے واقف تھے اور انگریزی، عربی، فارسی کے علاوہ پہلوی، عبرانی، سنسکرت اور فرانسیسی زبانوں سے بھی شناسائی رکھتے تھے۔
## فلسفہ اور سیاسی خیالات
نوجوانی کے زمانے میں جون ایلیا کمیونزم سے بھی متاثر ہوئے۔ ان کی فکری شخصیت صرف شاعری تک محدود نہیں تھی بلکہ تاریخ، فلسفہ، سیاست اور مذہب جیسے موضوعات بھی ان کی دلچسپی کا حصہ تھے۔
ان کا مطالعہ غیر معمولی طور پر وسیع تھا۔ وہ قدیم مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی تاریخ، فلسفے اور مختلف فکری تحریکوں کا گہرا مطالعہ کرتے تھے۔ ان کی علمی سرگرمیوں میں مختلف زبانوں کی کتابوں کا مطالعہ اور ترجمہ بھی شامل تھا۔
## ہجرت اور پاکستان آمد
قیامِ پاکستان کے بعد جون ایلیا کے بڑے بھائی پاکستان منتقل ہو گئے، تاہم جون کچھ عرصہ امروہہ میں ہی رہے۔ والدین کے انتقال کے بعد وہ 1956ء میں پاکستان آ گئے۔
ہندوستان اور امروہہ سے ان کی جذباتی وابستگی آخری عمر تک قائم رہی۔ ہجرت ان کے لیے محض ایک جغرافیائی سفر نہیں تھی بلکہ ایک گہرا ذہنی اور جذباتی تجربہ بھی تھی۔ وہ اپنی ہجرت کے احساس کو بیان کرتے ہوئے کہتے تھے:
> **پاکستان آ کر میں ہندوستانی ہو گیا۔**
پاکستان آنے کے بعد ان کے بھائی رئیس امروہوی نے انہیں ادبی سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کی کوشش کی تاکہ وہ ہجرت کے صدمے سے باہر آ سکیں۔ اسی مقصد کے تحت رئیس امروہوی نے علمی و ادبی رسالہ **انشا** جاری کیا، جس سے جون ایلیا وابستہ ہوئے اور اس کے اداریے لکھتے رہے۔ بعد میں یہ رسالہ **عالمی ڈائجسٹ** میں تبدیل ہو گیا۔
اسی دور میں جون ایلیا نے قبل از اسلام مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی تاریخ پر کام کیا اور باطنی تحریک اور فلسفے سے متعلق متعدد انگریزی، عربی اور فارسی کتابوں کا مطالعہ اور ترجمہ کیا۔
وہ اردو ترقی بورڈ سے بھی وابستہ رہے اور اردو لغت کی تیاری جیسے بڑے علمی منصوبے میں اہم کردار ادا کیا۔
## جون ایلیا اور عشق
جون ایلیا کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کا عاشقانہ مزاج تھا۔ وہ کم عمری ہی سے محبت اور تخیل کی دنیا میں رہتے تھے۔ بارہ برس کی عمر میں انہوں نے ایک خیالی محبوبہ، صوفیہ، کے نام خطوط بھی لکھے۔
نوجوانی میں انہیں ایک لڑکی فارہہ سے محبت ہوئی جس کی یاد ان کے ساتھ زندگی بھر رہی، تاہم انہوں نے کبھی کھل کر اپنے عشق کا اظہار نہیں کیا۔
جون کے عشق میں ایک خاص قسم کی خودداری اور انانیت موجود تھی۔ وہ محبت کے اظہار کو بعض اوقات اپنی کمزوری سمجھتے تھے۔ ان کا ایک شعر اسی کیفیت کی بھرپور عکاسی کرتا ہے:
> **حسن سے عرضِ شوق نہ کرنا حسن کو زک پہنچانا ہے
> ہم نے عرضِ شوق نہ کر کے حسن کو زک پہنچائی ہے**
جون ایلیا نے عشق کو روایتی انداز میں پیش کرنے کے بجائے اسے اپنی ذات، انا، شکست اور محرومی کے ساتھ جوڑ دیا۔ یہی انداز ان کی عشقیہ شاعری کو دوسرے شعرا سے منفرد بناتا ہے۔
## زاہدہ حنا سے شادی
رسالہ **انشا** کے زمانے میں جون ایلیا کی ملاقات معروف صحافی، ادیبہ اور افسانہ نگار زاہدہ حنا سے ہوئی۔ دونوں کے درمیان قربت بڑھی اور 1970ء میں ان کی شادی ہو گئی۔
شادی کے ابتدائی دور میں دونوں ایک دوسرے کے ساتھ خوش رہے۔ زاہدہ حنا نے جون ایلیا کی زندگی میں اہم کردار ادا کیا اور ان کی دیکھ بھال بھی کی، لیکن وقت کے ساتھ دونوں کے مزاج اور فکری اختلافات نمایاں ہوتے گئے۔
بعد ازاں دونوں میں علیحدگی ہو گئی اور تین بچوں کی پیدائش کے بعد ان کی طلاق ہو گئی۔
## جون ایلیا کی شخصیت
جون ایلیا کی شخصیت انتہائی پیچیدہ، حساس اور منفرد تھی۔ ان کے دوست قمر رضی نے ان کی شخصیت کو مختلف متضاد خصوصیات کا مجموعہ قرار دیا۔ ان کے مطابق جون ایک حساس مگر مخلص دوست، شفیق اور بے تکلف استاد، اپنے خیالات میں گم رہنے والے راہ گیر، زبردست شریکِ بحث، مغرور فلسفی، جلد جذباتی ہو جانے والے غم گسار اور انتہائی خوددار عاشق تھے۔
وہ تنہائی پسند بھی تھے اور محفل پسند بھی۔ انہیں لوگوں سے بحث کرنا، نئے خیالات پیش کرنا اور اپنی منفرد شخصیت کے ذریعے دوسروں کی توجہ حاصل کرنا پسند تھا۔
جون کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ عام لوگوں سے مختلف نظر آنے میں بھی دلچسپی رکھتے تھے۔ گرمی میں کمبل اوڑھ لینا، رات کو دھوپ کا چشمہ پہننا یا کھڑاؤں پہن کر دور دور تک چلے جانا ان کی شخصیت کے انوکھے پہلوؤں میں شمار ہوتا ہے۔
## مشاعروں کے مقبول شاعر
پاکستان آنے کے بعد جون ایلیا نے اپنی شاعری کے ذریعے بہت جلد ادبی حلقوں میں نمایاں مقام حاصل کر لیا۔ ان کی مقبولیت میں ان کے مشاعروں میں شرکت اور شاعری پڑھنے کے منفرد انداز کا بھی اہم کردار تھا۔
جون جب مشاعرے میں اپنا کلام پڑھتے تو ان کا اندازِ ادائیگی انتہائی ڈرامائی اور مؤثر ہوتا۔ ان کی آواز، انداز اور الفاظ کے انتخاب سے سامعین بہت متاثر ہوتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جس مشاعرے میں جون ایلیا شریک ہوتے، اس کی کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے تھے۔
ان کی منفرد شخصیت اور غیر روایتی انداز نے انہیں ادبی دنیا میں ایک الگ شناخت دی۔
## تنہائی، صحت اور آخری ایام
زاہدہ حنا سے علیحدگی جون ایلیا کی زندگی کا ایک اہم اور تکلیف دہ مرحلہ تھا۔ وہ طویل وقت تنہائی میں گزارتے اور اکثر نیم تاریک کمرے میں خاموش بیٹھے رہتے۔
تمباکو نوشی اور مشروبات کے استعمال نے بھی ان کی صحت کو متاثر کیا۔ زندگی کے آخری برسوں میں ان کی صحت مسلسل خراب ہوتی گئی۔
8 نومبر 2002ء کو جون ایلیا کراچی میں وفات پا گئے۔ ان کی وفات اردو ادب کے لیے ایک بڑے شاعر کی جدائی تھی، تاہم ان کی شاعری نے انہیں ہمیشہ کے لیے اردو ادب میں زندہ کر دیا۔
## جون ایلیا کی شاعری اور کتابیں
جون ایلیا اپنی شاعری کی اشاعت کے معاملے میں بھی غیر معمولی حد تک بے نیاز تھے۔ طویل عرصے تک ان کا کلام کتابی شکل میں شائع نہیں ہوا۔
تقریباً ساٹھ برس کی عمر میں، قارئین اور دوستوں کے اصرار پر، ان کا پہلا شعری مجموعہ **شاید** 1990ء میں شائع ہوا۔ اس کتاب نے انہیں عام قارئین کے درمیان بھی غیر معمولی مقبولیت عطا کی۔
ان کا دوسرا شعری مجموعہ **یعنی** ان کی وفات کے بعد 2003ء میں شائع ہوا۔ بعد میں ان کے قریبی ساتھی خالد احمد انصاری نے ان کے منتشر کلام اور تحریروں کو جمع کرنے، مرتب کرنے اور شائع کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کی بعد از وفات شائع ہونے والی اہم کتابوں میں:
* **گمان** — 2004ء
* **لیکن** — 2006ء
* **گویا** — 2008ء
* **فرنود** — 2012ء
* **راموز** — 2016ء
* **میں یا میں** — 2020ء
شامل ہیں۔
ان کے دوسرے شعری مجموعے **یعنی** کو بعد میں مزید اشعار کے اضافے کے ساتھ بھی شائع کیا گیا۔ **فرنود** میں جون ایلیا کی نثری تحریریں اور مختلف موضوعات پر ان کے انشائیے شامل ہیں۔
ان کے دیگر منتشر اور غیر مطبوعہ کلام کو بھی بعد میں مرتب کرنے کی کوششیں جاری رہیں۔
## جون ایلیا کی شاعری کا مقام
جون ایلیا کی عظمت صرف اس وجہ سے نہیں کہ انہوں نے روایتی شعری معیار پر پورا اترنے والی شاعری کی، بلکہ ان کی اصل انفرادیت انسانی جذبات اور نفسیاتی کیفیات کو انتہائی شدت اور گہرائی کے ساتھ بیان کرنے میں ہے۔
محبت، بے وفائی، تنہائی، مایوسی، خود سے مکالمہ، زندگی سے بیزاری، وجودی سوالات اور انسانی کمزوریوں کو جس انداز میں جون ایلیا نے شعر کا موضوع بنایا، اردو شاعری میں اس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔
ان کے اشعار میں ایک ہی وقت میں محبت بھی ہے، احتجاج بھی؛ امید بھی ہے، مایوسی بھی؛ خود اعتمادی بھی ہے اور اپنی ذات سے شکایت بھی۔
جون کی شاعری کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ وہ اپنے قاری کو صرف شعر پڑھنے کا تجربہ نہیں دیتی بلکہ اسے شاعر کی اندرونی دنیا میں داخل کر دیتی ہے۔ ان کے جذبات کی شدت اور کیفیت کو قاری تک منتقل کرنے کی صلاحیت انہیں اردو کے بڑے شاعروں کی صف میں شامل کرتی ہے۔
ان کی شاعری میں جذبات کی جو شدت اور داخلی کیفیت نظر آتی ہے، اس حوالے سے ان کا موازنہ اردو کے عظیم شاعر **میر تقی میر** سے بھی کیا جاتا ہے۔
## جون ایلیا کی ادبی میراث
جون ایلیا آج بھی اردو کے سب سے زیادہ پڑھے اور سنے جانے والے شاعروں میں شامل ہیں۔ ان کے اشعار نوجوان نسل میں خاص طور پر مقبول ہیں، کیونکہ ان کی شاعری میں محبت، تنہائی، ناکامی، خود کلامی اور زندگی کی پیچیدگیوں کو ایسے سادہ مگر گہرے انداز میں بیان کیا گیا ہے جس سے عام قاری بھی آسانی سے جڑ جاتا ہے۔
ان کی شاعری نے اردو ادب میں ایک ایسی آواز پیدا کی جو بیک وقت باغی، عاشق، فلسفی، شکست خوردہ اور خوددار تھی۔
جون ایلیا نے اپنی زندگی میں جتنا کم اپنی کتابوں کی اشاعت پر توجہ دی، ان کی وفات کے بعد ان کا کلام اتنا ہی زیادہ قارئین تک پہنچا۔ آج ان کا نام اردو شاعری کے ان منفرد شعرا میں لیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی ذات اور اپنے تجربات کو شاعری کا ایسا حصہ بنایا جو کئی نسلوں کے لیے یادگار بن گیا۔
**جون ایلیا صرف ایک شاعر نہیں بلکہ اردو ادب میں ایک منفرد فکری اور جذباتی لہجے کا نام ہیں۔**
📚 Total Poetry: 7
جون ایلیا کی شاعری
کیا تکلف کریں یہ کہنے میں
کیا تکلف کریں یہ کہنے میں جو بھی خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں
مکمل شاعری پڑھیں ←کتنی دل کش ہو تم کتنا دلجو ہوں میں
کتنی دل کش ہو تم کتنا دلجو ہوں میں کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے
مکمل شاعری پڑھیں ←یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا
مکمل شاعری پڑھیں ←میں جو ہوں جونؔ ایلیا ہوں جناب
میں جو ہوں جونؔ ایلیا ہوں جناب اس کا بے حد لحاظ کیجئے گا
مکمل شاعری پڑھیں ←